عوام چاغی کے نام آئی بیک کا پیغام
السلام علیکم
غالبا یہ سن 2009 کی بات ہیں
میں اپنے دوست کے ہاں اس کے بیٹھک میں گپول میں مشعول تھا کہ اچانک مجھے کسی کے چیخ سنائی دی
وہ چیخ چیخ کر میرے دوست جو میرے ساتھ بیٹھا تھا اس کا نام لیکر پکار رہا تھا
میں چونکہ اس کے گھر میں مہمان تھا اس لئے مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ میں بیٹھک کی دیوار پلانگ کرکے پاس ہی کے کمرے میں جاکر اس چیخنے والی کی داد رسی کروں پھر خیال آیا جب اس گھر کا بندہ ہی ساتھ بیٹھا ہو تو میرے جانے کی کیا ضرورت
جس کو پکار رہا تھا وہ بڑے اطمینان اور تسلی سے اٹھا اور جانے کے فورا بعد واپس اگیا ۔
میں نے پوچھا کیا ہوا
یہ کون تھا کیوں چلارہا تھا ،آپ کو کیوں چیخ چیخ کے پکار رہا تھا اور آپ واپس اتنے جلدی میں کیوں آکر بیٹھ گئے اللہ خیر کریں کیا ہوا ۔
ریلیکس یار ،کچھ بھی تو نہیں ہوا
کچھ بھی تو نہیں ہوا؟ تو پھر یہ کیا تھا ۔
یار یہ روز کا معمول ہیں ،یہ سالا میرا بڑا بھائی ہیں پاس ہی کمرے میں ٹی دیکھ رہا ہے کھبی کھبار جب ٹی وی کا ریموٹ اس سے دو گز کے فاصلے پر ہوتا ہے تو یہ گلہ چیر کر لاؤڈسپیکر جیسی بلند آواز نکال کر ہمیں اس لئے پکارتا ہے کہ ریموٹ اس کے ہاتھ میں تمھاکر یا کھبی کھبار چینل تبدیل کرکے واپس نکل لیتے ہیں
یار بڑا افسوس ہوا آپ کے بھائی کی معذوری کا سن کر ، غالبا میں آپ کے سارے بھائیوں کو جانتا ہوں تو پھر یہ کونسا بھائی ہیں
یار پہلے تو یہ بتا، میں نے کب کہا کہ میرا بھائی معذور ہیں
ابھی آپ ہی نے کہا کہ ایک ریموٹ جب اس سے دور دوگز کے فاصلے پر ہو تو وہ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھالیتا ہے تو یہ معذور نہیں تو اور کیا ہے ؟
یار میرا بھائی اپنی عادت سے مجبور ہیں وہ اتنا آرام پرست اور نکما ہے کہ پاس ہی پڑے ریموٹ کنٹرول کے لئے اپنی جان جوکم میں نہیں ڈالتا اور بس اپنی سہولت کے لئے کچھ اس طرح کا رویہ اپنایا ہوا ہے
اب اس سے ملتی جلتی حال چاغی کے عوام کا ہیں یہ خان طمع عوام گھروں میں دسترخوان پر ، گلی کے نکڑ پر دوستوں ، ہوٹلوں اور تڑوں پر لوکل دانشوروں کے ساتھ بیٹھ کر چیخ چیخ کر عارف جان اور صادق سنجرانی پرگلہ پھاڑ کر تنقید تو کرتے ہیں
لیکن کھبی اجتماعی مسائل کے حل کے حوالے سے ان سے ملاقاتیں نہیں کرتے اور نظریں جمائے ہیں معاشرے کے مسائل حل ہونے کے حوالے سے ۔
یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے عارف جان کو ووٹ دیکر اس لئے کامیاب بنایا تاکہ وہ اب ہمیں روزانہ فردا فردا فون کرکے کھانے کے ڈششز میں نمک زیادہ اور مرچ کم ہونے پر اظہار افسوس کرتا رہے ،
میں تنقید کرنے والے عوام کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ عارف جان اور صادق سنجرانی کے سامنے چاغی کا کوئی ایک اجتماعی مسلہ رکھ دیں اور اگر عارف جان یا صادق سنجرانی نے حل نہیں کروایا تو جو سزا کسی چور کی وہ میری ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا ہر فرد ذہنی طور پر اتنا بانجھ ہیں کہ ان کو اجتماعی مسائل نظر ہی نہیں آرہا اور ہر شخص اپنا ذاتی مسلہ حل نہ ہونے پر ان دو حضرات کو تنقید کا نشانہ بنارہا ہیں
اگر ہم لوگ ذہنی طور پر اسی طرح بانجھ رہے تو کل کو کسی سڑک چاپ کی کچھ اس طرح کی دل سوز گلہ بھی سننے کو ملے گا
":یار عارف جان بہت مغرور ہیں مجھے تڑے پر دیکھ کر میرے ساتھ چائے پینا تک گوارا نہیں کیا کیونکہ میں غریب ہوں نا اس لئے :"
غالبا یہ سن 2009 کی بات ہیں
میں اپنے دوست کے ہاں اس کے بیٹھک میں گپول میں مشعول تھا کہ اچانک مجھے کسی کے چیخ سنائی دی
وہ چیخ چیخ کر میرے دوست جو میرے ساتھ بیٹھا تھا اس کا نام لیکر پکار رہا تھا
میں چونکہ اس کے گھر میں مہمان تھا اس لئے مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ میں بیٹھک کی دیوار پلانگ کرکے پاس ہی کے کمرے میں جاکر اس چیخنے والی کی داد رسی کروں پھر خیال آیا جب اس گھر کا بندہ ہی ساتھ بیٹھا ہو تو میرے جانے کی کیا ضرورت
جس کو پکار رہا تھا وہ بڑے اطمینان اور تسلی سے اٹھا اور جانے کے فورا بعد واپس اگیا ۔
میں نے پوچھا کیا ہوا
یہ کون تھا کیوں چلارہا تھا ،آپ کو کیوں چیخ چیخ کے پکار رہا تھا اور آپ واپس اتنے جلدی میں کیوں آکر بیٹھ گئے اللہ خیر کریں کیا ہوا ۔
ریلیکس یار ،کچھ بھی تو نہیں ہوا
کچھ بھی تو نہیں ہوا؟ تو پھر یہ کیا تھا ۔
یار یہ روز کا معمول ہیں ،یہ سالا میرا بڑا بھائی ہیں پاس ہی کمرے میں ٹی دیکھ رہا ہے کھبی کھبار جب ٹی وی کا ریموٹ اس سے دو گز کے فاصلے پر ہوتا ہے تو یہ گلہ چیر کر لاؤڈسپیکر جیسی بلند آواز نکال کر ہمیں اس لئے پکارتا ہے کہ ریموٹ اس کے ہاتھ میں تمھاکر یا کھبی کھبار چینل تبدیل کرکے واپس نکل لیتے ہیں
یار بڑا افسوس ہوا آپ کے بھائی کی معذوری کا سن کر ، غالبا میں آپ کے سارے بھائیوں کو جانتا ہوں تو پھر یہ کونسا بھائی ہیں
یار پہلے تو یہ بتا، میں نے کب کہا کہ میرا بھائی معذور ہیں
ابھی آپ ہی نے کہا کہ ایک ریموٹ جب اس سے دور دوگز کے فاصلے پر ہو تو وہ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھالیتا ہے تو یہ معذور نہیں تو اور کیا ہے ؟
یار میرا بھائی اپنی عادت سے مجبور ہیں وہ اتنا آرام پرست اور نکما ہے کہ پاس ہی پڑے ریموٹ کنٹرول کے لئے اپنی جان جوکم میں نہیں ڈالتا اور بس اپنی سہولت کے لئے کچھ اس طرح کا رویہ اپنایا ہوا ہے
اب اس سے ملتی جلتی حال چاغی کے عوام کا ہیں یہ خان طمع عوام گھروں میں دسترخوان پر ، گلی کے نکڑ پر دوستوں ، ہوٹلوں اور تڑوں پر لوکل دانشوروں کے ساتھ بیٹھ کر چیخ چیخ کر عارف جان اور صادق سنجرانی پرگلہ پھاڑ کر تنقید تو کرتے ہیں
لیکن کھبی اجتماعی مسائل کے حل کے حوالے سے ان سے ملاقاتیں نہیں کرتے اور نظریں جمائے ہیں معاشرے کے مسائل حل ہونے کے حوالے سے ۔
یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے عارف جان کو ووٹ دیکر اس لئے کامیاب بنایا تاکہ وہ اب ہمیں روزانہ فردا فردا فون کرکے کھانے کے ڈششز میں نمک زیادہ اور مرچ کم ہونے پر اظہار افسوس کرتا رہے ،
میں تنقید کرنے والے عوام کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ عارف جان اور صادق سنجرانی کے سامنے چاغی کا کوئی ایک اجتماعی مسلہ رکھ دیں اور اگر عارف جان یا صادق سنجرانی نے حل نہیں کروایا تو جو سزا کسی چور کی وہ میری ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا ہر فرد ذہنی طور پر اتنا بانجھ ہیں کہ ان کو اجتماعی مسائل نظر ہی نہیں آرہا اور ہر شخص اپنا ذاتی مسلہ حل نہ ہونے پر ان دو حضرات کو تنقید کا نشانہ بنارہا ہیں
اگر ہم لوگ ذہنی طور پر اسی طرح بانجھ رہے تو کل کو کسی سڑک چاپ کی کچھ اس طرح کی دل سوز گلہ بھی سننے کو ملے گا
":یار عارف جان بہت مغرور ہیں مجھے تڑے پر دیکھ کر میرے ساتھ چائے پینا تک گوارا نہیں کیا کیونکہ میں غریب ہوں نا اس لئے :"

Nice one
ReplyDelete